تونسہ شریف۔ چیرمین الیکشن ،صورتحال نہایت کشیدہ،سردار میربادشاہ غصے میں

تونسہ شریف ۔ عظمت بزدار سے۔ تونسہ شریف میں میونسپل کمیٹی کے چیرمین وائس چیرمین کے انتخابات کے سلسلہ میں چار امیدوار مدمقابل ہیں جن میں دو گرپوں کو مسلم لیگ ن کی حمایت یافتہ ہے، سید محمد رمضان شاہ کو مسلم ن لیگ کے سابق ایم پی اے سردار میر بادشاہ قیصرانی ، شمعونہ بادشاہ قیصرانی اور موجودہ ایم پی اے سردار ممتاز بھٹو مسلم لیگ ن کی بھر پور حمایت حا صل ہے جبکہ ان کے مد مقابل خواجہ فرخ محمود کو مسلم لیگ ن کے ایم این اے سردار امجد فاروق کھوسہ کی حمایت حاصل ہے اور اصل مقابلہ ن لیگ کے حمایت گروپوں کے درمیان ہے جبکہ سید رمضان شاہ کو اب تک سیاسی تجزیہ نگار کے مطابق فیورٹ قرار دیا جارہا ہے ، حیرت انگریز طور پر پی ٹی آئی نے بھی انکی حمایت کا اعلان کر دیا ہے جس سے ان کی کامیابی کے امکانات ہیں ، اس وقت سید رمضان شاہ گروپ کو چودہ ممبران کی حمایت حا صل ہے جن میں سید رمضان شاہ، خواجہ غلام اللہ بخش، رانامتین، لالہ اعجاز، عامر حسنین، وسیم کھوکھر، خاور جاوید، خلیل حجانہ، غلام جعفر قریشی، سید مرید شاہ غلام یسین آرائیں ، حاجی فقیر محمد بھٹہ ، عزیز بی بی، سعدیہ بانو شامل ہیں جبکہ مسلم لیگ کے دوسرے دھڑے امجد کھوسہ گروپ کے پاس خواجہ فرخ مرتضی، یوسف مغل، اقبال بزدار، منظور مغل، خالد چچہ، سعدیہ قادر، یونس منگلہ، مظہر اقبال، خلیفہ محمد حسین، پیر بشیر جعفر ، بلال جعفر، اور بشری بی بی شامل ہیں، پی ٹی آئی کے کونسلر حاجی فقیر محمد بھٹہ کی کامیابی کے بعد انکے مخالف امیدوار محمد رفیق بھٹہ نے انکی کامیابی کو چیلنج کیا تھا جس پر ریٹرننگ آفیسر نے اثاثہ جات چھپانے پر نااہل قرار دیا تھا جس کے خلاف حاجی فقیر محمد بھٹہ ملتان ہائیکورٹ سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا تھا جسے گزشتہ روز ہائیکورٹ میں وکیل کی غیر حاضری کی بنا پر ایکشن کمشن ٹریبونل کے فیصلہ کو بحال کر دیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق تحریری فیصلہ جاری نہ ہونے کے باعث کل کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے یا نہ ڈالنے پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں ، دوسری جانب پی ٹی آئی کے کونسلر حاجی فقیر محمد بھٹہ کا کہنا وہ فیصلے کے خلاف کل اپیل دائر کریں گے ، دوسری جانب عدالتی فیصلہ محمد رفیق بھٹہ کونسلر کی بحالی کے بعد سوال کھڑا ہوا ہے کہ کیا کل وہ بغیر نوٹیفکیش اور حلف برداری کے اپنا ووٹ کاسٹ کر سکیں گے یا نہیں ، اس دلچسپ صورتحال میں اور مشکل ترین صورتحال میں دونوں گروپوں کے پاس برابر برابر ووٹ ہو جائیں گے جس سے انتخابات ٹائی ہونے کے امکانات بھی موجود ہیں ۔ دلچسپ بات یہ کہ تمام امیدوار آزاد حثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں ، ن لیگ میں آپس کی لڑائی کی وجہ کسی بھی امیدوار کو ٹکٹ نہ جاری نہ کیا گیا، سابق ایم پی اے سردار میر بادشاہ قیصرانی نے خبریں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ کے نامزد امیدوار سید محمد رمضان شاہ گروپ کی کامیابی یقینی ہے جبکہ ایم این اے سردار امجد کھوسہ اپنے نامزدہ کردہ امیدوار کو زبردستی جتوانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں اور ضلعی پولیس کے ذرئعے ہمارے مخصوص نشتوں پر کامیاب امیدواروں کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ جاری ہے ، اگر ہمارے کسی بھی کونسلر کو کسی بھی طرح ہراساں یانقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی کو انہیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑیگا۔ اور کل کا دن مسلم لیگ کی جیت کا دن ہو گا،واضح رہے کہ چیرمین کے دو امیدوارون خواجہ اللہ بخش نے سید رمضان شاہ جبکہ پیر بشیر جعفر نے خواجہ فرخ محمود کی باقاعدہ حمایت کرتے ہوئے ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے، الیکشن سے ایک روز قبل دونوں گرپوں کے کونسلروں کو تونسہ شہر سے باہر مختلف شہریوں میں رکھا گیا اور خوب خدمت اور تواضع کی گئی ، خدشہ کے ہائیکورٹ کے آج کے بحالی کے فیصلہ کے بعد کل کے الیکشن میں ووٹ برابر ہوجانے کے باعث گروپوں میں پولنگ سٹیشن پر تلخ کلامی اور لڑائی کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے تاہم انتظامیہ نے اسے بھی کسی ناخوشگوار واقعہ رونما ہونے کے پیش نظر سخت انتظامات کر لئے ہیں


اپنا تبصرہ بھیجیں